الفتح الربانی
أبواب العيدين * وما يتعلق بهما من صلاة وغيرها— عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب
بَابُ سَبَبِ مَشْرُوعِيَّتِهَا وَاسْتِحْبَابِ الْغُسْلِ وَالتَّجَمُّلِ لَهُمَا وَمُخَالَفَةِ الطَّرِيقِ باب: ان دونوں کی مشروعیت کے سبب، ان کے لیے غسل اور تجمّل کے مستحب ہونے¤اور واپسی پر راستہ تبدیل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2828
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ رَأَى حُلَّةَ سِيَرَاءَ أَوْ حَرِيرٍ تُبَاعُ، فَقَالَ لِلْنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَوِ اشْتَرَيْتَ هَٰذِهِ تَلْبَسُهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ لِلْوُفُودِ، قَالَ: ((إِنَّمَا يَلْبَسُ هَٰذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک زرد رنگ کی دھاریوں والا، جس میں ریشم کی آمیز ش تھی یا ریشمی حُلّہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اگر آپ یہ خرید لیں اورجمعہ کے دن یامختلف وفود کی آمد پر پہنا کریں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لباس وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں ہوتا۔