حدیث نمبر: 2825
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ: لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ، إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَتَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ، لَا تُوْصَلْ صَلَاةٌ بِصَلَاةٍ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَتَكَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سائب بن یزید کہتے ہیں: میں نے مقصورہ میں سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی، جب انھوں نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا ، جب وہ (گھر میں) داخل ہوئے تو انھوں نے میری طرف پیغام بھیجا، جب میں پہنچا تو کہا: تو نے جو کام ابھی کیا ہے، دوبارہ اس طرح نہ کرنا، بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کا حکم دیا ہے کہ نماز کو نماز سے نہ ملایا جائے حتی کہ تو اس جگہ سے نکل جائے یا کسی سے کلام کر لے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2825
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 883 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16866 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16991»