حدیث نمبر: 2817
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ وَكَانَ كَاتِبًا لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَخْلِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَاسْتَخْلَفَهُ مَرَّةً فَصَلَّى الْجُمُعَةَ فَقَرَأَ سُورَةَ الْجُمُعَةِ وَ{إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ}، فَلَمَّا انْصَرَفَ مَشَيْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! قَرَأْتَ بِسُورَتَيْنِ قَرَأَ بِهِمَا عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ قَرَأَ بِهِمَا حِبِّي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے کاتب عبید اللہ بن ابی رافع کہتے ہیں: مروان، سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ کا خلیفہ بناتا رہتا تھا، ایک دفعہ اس نے ان کو ایسے ہی اپنا نائب بنایا ، تو انہوں نے نماز جمعہ پڑھائی اور اس میں سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون کی تلاوت کی ۔ جب وہ فارغ ہوئے تو میں ان کے پہلو میں چلا اور ان سے کہا : اے ابوہریرہ ! تم نے جو دو سورتیں تلاوت کی ہیں ، سیّدنا علی علیہ السلام بھی ان کی تلاوت کرتے تھے ۔ آگے سے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے محبوب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ان سورتوں کی قراءت کی ہے ۔‘‘

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2817
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 877 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9550 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9545»