الفتح الربانی
أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها— نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب
بَابُ الْمَنْعِ مِنَ الْكَلَامِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ وَالرُّخْصَةِ فِي تَكَلُّمِهِ وَتَكْلِيمِهِ لِمَصْلَحَةٍ وَجَوَازِ قَطْعِ الْخُطْبَةِ لِأَمْرٍ يَحْدُثُ باب: دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا¤امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان
عَنْ أَبِي رِفَاعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ، قَالَ فَأَقْبَلَ إِلَيَّ فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْهِ فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، قَالَ ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ فَأَتَمَّ آخِرَهَاسیّدنا ابورفاعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایک اجنبی آدمی ہوں، دین کے بارے میں سوال کرنے آیا ہوں، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ میرا دین کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے، پھر کرسی لائی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو علم دیا، اس میں سے مجھے تعلیم دینے لگے، پھر خطبہ کے لیے تشریف لے گئے اور اس کا آخری حصہ مکمل کیا۔