الفتح الربانی
أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها— نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب
بَابُ الْمَنْعِ مِنَ الْكَلَامِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ وَالرُّخْصَةِ فِي تَكَلُّمِهِ وَتَكْلِيمِهِ لِمَصْلَحَةٍ وَجَوَازِ قَطْعِ الْخُطْبَةِ لِأَمْرٍ يَحْدُثُ باب: دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا¤امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَرَاءَةً وَهُوَ قَائِمٌ يُذَكِّرُ بِأَيَّامِ اللَّهِ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَجَاهَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو الدَّرْدَاءِ وَأَبُو ذَرٍّ، فَغَمَزَ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ أَحَدُهُمَا فَقَالَ مَتَى أُنْزِلَتْ هَٰذِهِ السُّورَةُ يَا أُبَيُّ! فَإِنِّي لَمْ أَسْمَعْهَا إِلَّا الْآنَ؟ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنْ يَسْكُتْ فَلَمَّا انْصَرَفُوا، قَالَ: سَأَلْتُكَ مَتَى أُنْزِلَتْ هَٰذِهِ السُّورَةُ فَلَمْ تُخْبِرْ، قَالَ أُبَيٌّ: لَيْسَ لَكَ مِنْ صَلَاتِكَ الْيَوْمَ إِلَّا مَا لَغَوْتَ، فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ وَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ أُبَيٌّ فَقَالَ: ((صَدَقَ أُبَيٌّ))سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ والے دن سورۂ توبہ کی تلاوت کی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے تھے اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کے ساتھ وعظ ونصیحت کر رہے تھے۔ سیّدنا ابی بن کعب، سیّدنا ابو الدرداء اور سیّدنا ابوذر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے، (مؤخر الذکر دو صحابہ میں سے) ایک نے سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو دبایا اور پوچھا: ابی! یہ سورت کب نازل ہوئی، میں نے تو آج ہی سنی ہے؟ انھوں نے جواباً خاموش رہنے کا اشارہ کیا، جب وہ (جمعہ سے) فارغ ہو گئے تو اس صحابی نے کہا: میں نے تم سے سوال کیا تھا کہ یہ سورۃ کب نازل ہوئی ، لیکن تم نے مجھے کوئی بات نہ بتلائی۔ اب کی بار سیّدنا ابی رضی اللہ عنہ نے کہا: آج تجھے اپنی اس نماز میں سے کچھ نہیں ملا، مگر وہی کچھ جو تو نے لغو بات کی ہے۔ یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلا گیا اور ابی کے قول سمیت ساری بات ذکر کر دی، آگے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابی نے سچ کہا۔