الفتح الربانی
أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها— نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب
بَابُ الْمَنْعِ مِنَ الْكَلَامِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ وَالرُّخْصَةِ فِي تَكَلُّمِهِ وَتَكْلِيمِهِ لِمَصْلَحَةٍ وَجَوَازِ قَطْعِ الْخُطْبَةِ لِأَمْرٍ يَحْدُثُ باب: دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا¤امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 2802
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ أَنْصِتْ فَقَدْ لَغَيْتَ))، قَالَ سُفْيَانُ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ هِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو جمعہ کے دن اپنے ساتھی کو کہے، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو، کہ تو خاموش ہوجا تو تحقیق تو لغو کام کرے گا۔ ابوزناد نے کہا: لَغَوْتَ کو لَغَیْتَ پڑھنا سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی لغت ہے۔