الفتح الربانی
أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها— نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَتَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهَيْئَاتِهِمَا وَآدَابِهِمَا وَالْجُلُوسِ بَيْنَهُمَا باب: دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2800
عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَقَدْ كَانَ تُنُّورُنَا وَتُنُّورُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا سَنَتَيْنِ أَوْ سَنَةً وَبَعْضَ سَنَةٍ وَمَا أَخَذْتُ {قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ} إِلَّا عَلَى لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقْرَأُ بِهَا كُلَّ يَوْمِ جُمُعَةٍ عَلَى الْمِنْبَرِ إِذَا خَطَبَ النَّاسَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام ہشام بنت حارثہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: دو سال یا اس سے کچھ کم مدت تک کے لیے ہمارا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تنور ایک رہا، میں نے سورۂ ق حاصل نہیں کی، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان ِ مبارک سے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جمعہ کو جب لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے تو اس کی تلاوت کرتے تھے۔