حدیث نمبر: 2797
عَنِ الْحَكَمِ بْنِ حَزْنٍ الْكُلَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَةٍ أَوْ تَاسِعَ تِسْعَةٍ، قَالَ: فَأَذِنَ لَنَا فَدَخَلْنَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتَيْنَاكَ لِتَدْعُوَ لَنَا بِخَيْرٍ، قَالَ: فَدَعَا لَنَا بِخَيْرٍ وَأَمَرَ بِنَا فَأُنْزِلْنَا، وَأَمَرَ لَنَا بِشَيْءٍ مِنْ تَمْرٍ وَالشَّأْنُ إِذْ ذَٰكَ دُونٌ، قَالَ: فَلَبِثْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيَّامًا شَهِدْنَا فِيهَا الْجُمُعَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَوَكِّئًا عَلَى قَوْسٍ أَوْ قَالَ عَلَى عَصًا، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ كَلِمَاتٍ خَفِيفَاتٍ طَيِّبَاتٍ مُبَارَكَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ لَنْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تُطِيقُوا كُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِهِ وَلَٰكِنْ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا حکم بن حزن کلفی رضی اللہ عنہ ، جن کو صحابیت کا شرف حاصل تھا، نے ہمیں بیان کرتے ہوئے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ میں (اپنے وفد کا) ساتواں یا نواں فرد تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اجازت دی، پس ہم داخل ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ ہمارے لیے خیر کی دعا کریں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے خیر کی دعا کی اور ہمارے بارے میں حکم دیا کہ ہمیں ایک مقام پر اتارا جائے اور کھجوروں کے ساتھ ہماری ضیافت کی جائے، جبکہ لوگوں کے حالات بھی تنگ تھے۔ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ دن کے لیے ٹھہرے رہے، اس دورانیے میں ہم نے جمعہ بھی ادا کیا،(ہم نے دیکھا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کما ن یا لاٹھی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، بس یہ چند بابرکت اور پاکیزہ کلمات تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم (تمام احکام پر) ہر گز عمل نہیں کر سکو گے، اس لیے راہِ مستقیم پر چلتے رہو اور (لوگوں کو) خوشخبریاں سناتے رہو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2797
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي أخرجه أبويعلي: 6826، والبيھقي في ’’دلائل النبوة‘‘: 5/ 354، وابن عساكر في ’’تاريخ دمشق‘‘: 8/ ورقة 132 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17856)۔ أخرجه أحمد: 3/394 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18011»