حدیث نمبر: 2795
عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ: قَالَ أَبُو وَائِلٍ: خَطَبَنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَأَبْلَغَ وَأَوْجَزَ، فَلَمَّا نَزَلَ قُلْنَا: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ! لَقَدْ أَبْلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ فَلَوْ كُنْتَ تَنَفَّسْتَ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ، فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ وَأَقْصِرُوا الْخُطْبَةَ، فَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابووائل کہتے ہیں: سیّدناعمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا، وہ بہت بلیغ اور مختصر تھا، پس جب وہ منبر سے اتر ے تو ہم نے کہا: اے ابوالیقظان! یقینا آپ نے بہت بلیغ اور مختصر خطبہ دیا ہے، تھوڑا سا لمبا کردیتے، انہوں نے جواباً کہا: دراصل میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بے شک آدمی کی نماز کا لمبا ہونا اور خطبہ کا چھوٹا ہونا اس کے سمجھدار ہونے کی علامت ہے۔ اس لیے تم لوگ نماز کو لمبا اور خطبہ کو مختصر کیا کرو، بے شک بعض بیان تو جادو ہوتے ہیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2795
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 869 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18317 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18507»