حدیث نمبر: 2785
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَإِنَّ أَفْضَلَ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ)) ثُمَّ يَرْفَعُ صَوْتَهُ وَتَحْمَرُّ وَجْنَتَاهُ وَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ، قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ: ((أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ، بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَٰكَذَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى صَبَّحَتْكُمْ السَّاعَةُ وَمَسَّتْكُمْ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ))، وَالضَّيَاعُ يَعْنِي وَلَدَهُ الْمَسَاكِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشادفرمایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے لائق اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: بے شک سچی ترین بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، سب سے زیادہ فضیلت والا طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ ہے، بدترین امور بدعات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت کا ذکر کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز بلند ہوجاتی، رخسار سرخ ہو جاتے اور غصہ بڑھ جاتا اور یوں لگتا کہ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں، پھر فرماتے :’’تمہارے پاس قیامت آ چکی ہے ، مجھے اور قیامت کو (ان دو انگلیوں کی طرح قریب قریب) بھیجا گیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہادت والی اور درمیانی انگلیوں سے اشارہ کیا ۔’’قیامت تمہارے پاس صبح کو آ جائے گی اور شام کو آ جائے گی ، جو مال چھوڑ کر مر گیا وہ اس کے اہل (یعنی ورثاء) کو ملے گا اور جس نے قرض یا اولاد چھوڑی تو وہ میری طرف ہے اور مجھ پر ہے ۔‘‘ ’’ضَیَاع‘‘ سے مراد مسکین اولاد ہے ۔‘‘

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2785
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 867 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14334 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14386»