الفتح الربانی
أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها— نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب
بَابُ الْآذَانِ لِلْجُمُعَةِ إِذَا جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَكَيْفَ كَانَ الْمِنْبَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ باب: جمعہ کی اذان کا بیان جب خطیب منبر پر بیٹھ جائے، نیز اس چیز کا بیان کہ عہد نبوی میں منبر کیسا تھا
عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِلَى خَشَبَةٍ فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ قَالَ ابْنُولِي مِنْبَرًا أَرَادَ أَنْ يُسْمِعَهُمْ فَبَنَوْا لَهُ عَتَبَتَيْنِ فَتَحَوَّلَ مِنَ الْخَشَبَةِ إِلَى الْمِنْبَرِ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّهُ سَمِعَ الْخَشَبَةَ تَحِنُّ حَنِينَ الْوَالِحِ قَالَ فَمَا زَالَتْ تَحِنُّ حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِنْبَرِ فَمَشَى إِلَيْهَا فَاحْتَضَنَهَا فَسَكَنَتْسیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرماتے تو ایک لکڑی کے ساتھ اپنی پیٹھ کی ٹیک لگا لیتے، لیکن جب لوگ زیادہ ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے ایک منبر تیار کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ ان کو اپنی بات سنا سکیں، پس صحابہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دو سیڑھیوں والا منبر تیار کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لکڑی والے منبر پر منتقل ہو گئے۔ سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ انہوں نے (اس پہلے والی) لکڑی کے لیے انتہائی غمگین کی رونے کی سی آواز سنی، وہ لگاتار روتی رہی، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر سے اترے، اس کی طرف گئے اور اس کو اپنے ساتھ لگایا، سو وہ خاموش ہو گئی۔