الفتح الربانی
أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها— نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب
بَابُ الْآذَانِ لِلْجُمُعَةِ إِذَا جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَكَيْفَ كَانَ الْمِنْبَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ باب: جمعہ کی اذان کا بیان جب خطیب منبر پر بیٹھ جائے، نیز اس چیز کا بیان کہ عہد نبوی میں منبر کیسا تھا
حدیث نمبر: 2780
(وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ:) كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَذَانٌ حَتَّى كَانَ زَمَنُ عُثْمَانَ فَكَثُرَ النَّاسُ فَأَمَرَ بِالْأَذَانِ الْأَوَّلِ بِالزَّوْرَاءِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سائب رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں دو اذانیں ہوتی تھیں، یہاں تک کہ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا دور آ گیا اور لوگ زیادہ ہو گئے، اس لیے انھوں نے زوراء پر پہلی اذان کا حکم دے دیا۔