الفتح الربانی
أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها— نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب
بَابُ التَّنَفُّلِ قَبْلَ الْجُمُعَةِ مَا لَمْ يَصْعَدِ الْخَطِيبُ الْمِنْبَرَ فَإِذَا صَعِدَ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ تَحِيَّةَ الْمَسْجِدِ لِدَاخِلٍ باب: خطیب کے منبر پر چڑھنے سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان اور اس چیز کا بیان¤کہ جب وہ منبر پر چڑھ جائے تو آنے والا دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے گا
حدیث نمبر: 2776
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَغْدُو إِلَى الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيُصَلِّي رَكْعَاتٍ يُطِيلُ فِيهِنَّ الْقِيَامَ فَإِذَا انْصَرَفَ الْإِمَامُ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَالَ هَٰكَذَا كَانَ يَفْعَلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نافع کہتے ہیں کہ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن صبح صبح مسجد کی طرف چلے جاتے، پھر لمبے قیام کے ساتھ نفلی نماز کی رکعات ادا کرتے، جب امام (خطبہ و نماز سے) فارغ ہو جاتا تو گھر واپس لوٹ جاتے اور دو رکعت سنتیں پڑھتے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طر ح کرتے تھے۔