الفتح الربانی
أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها— نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب
بَابُ فَضْلِ التَّبْكِيرِ إِلَى الْجُمُعَةِ وَالْمَشْيِ لَهَا دُونَ الرُّكُوبِ وَالدُّنُوِّ مِنَ الْإِمَامِ وَالْأَنْصَاتِ لِلْخُطْبَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَهُ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَرَأَى غُلَامًا فَقَالَ لَهُ: يَا غُلَامُ! اذْهَبْ، الْعَبْ، قَالَ: إِنَّمَا جِئْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، قَالَ: يَا غُلَامُ! اذْهَبْ! الْعَبْ، قَالَ: إِنَّمَا جِئْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَتَقْعُدُ حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَجِيءُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَتَقْعُدُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَتَكْتُبُ السَّابِقَ وَالثَّانِي وَالثَّالِثَ وَالنَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمْ حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ))ابو ایوب کہتے ہیں: میں جمعہ کے دن سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا، انہوں نے ایک لڑکے کو دیکھا اور اسے کہا: اے لڑکے! جاؤ اورکھیلو، لیکن اس نے کہا: میں تو مسجد کی طرف آیا ہوں، انھوں نے پھر کہا: لڑکے! جاؤ اور کھیلو، لیکن اس نے پھر کہا: میں مسجد کی طرف آیا ہوں، انھوں نے پوچھا: تو امام کے نکلنے تک بیٹھا رہے گا؟اس نے کہا: جی ہاں، یہ سن کر سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ فرشتے جمعہ کے دن آکر مسجدوں کے دروازوں پربیٹھ جاتے ہیں اورسب سے پہلے آنے والے، پھر دوسرے نمبر پر اورپھر تیسرے نمبر پر آنے والے لوگوں کو ان کے مرتبوں کے مطابق لکھتے ہیں، حتیٰ کہ امام نکل آتا ہے۔ جب امام نکل آتاہے تو صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں۔