الفتح الربانی
أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها— نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب
بَابُ فَضْلِ التَّبْكِيرِ إِلَى الْجُمُعَةِ وَالْمَشْيِ لَهَا دُونَ الرُّكُوبِ وَالدُّنُوِّ مِنَ الْإِمَامِ وَالْأَنْصَاتِ لِلْخُطْبَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ خَرَجَ الشَّيَاطِينُ يُرَبِّثُونَ النَّاسَ إِلَى أَسْوَاقِهِمْ وَمَعَهُمُ الرِّيَاتُ وَتَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ مَنَازِلِهِمْ، السَّابِقَ وَالْمُصَلِّي وَالَّذِي يَلِيهِ حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ، فَمَنْ دَنَا مِنَ الْإِمَامِ وَأَنْصَتَ وَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ نَاةَ عَنْهُ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ دَنَا مِنَ الْإِمَامِ فَلَغَا وَلَمْ يُنْصِتْ وَلَمْ يَسْتَمِعْ كَانَ عَلَيْهِ كِفْلَانِ مِنَ الْوِزْرِ وَمَنْ نَاةَ عَنْهُ فَلَغَا وَلَمْ يُنْصِتْ وَلَمْ يَسْتَمِعْ كَانَ عَلَيْهِ كِفْلٌ مِنَ الْوِزْرِ، وَمَنْ قَالَ صَهْ فَقَدْ تَكَلَّمَ، وَمَنْ تَكَلَّمَ فَلَا جُمُعَةَ لَهُ، ثُمَّ قَالَ هَٰكَذَا سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَسیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو شیاطین اپنے جھنڈے لے کر نکلتے ہیں اور لوگوں کو بازاروں کی طرف روک دیتے ہیں، جبکہ فرشتے مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور لوگوں کو ان کے مرتبے کے مطابق لکھنا شروع کر دیتے ہیں، یعنی سب سے پہلے آنے والا، پھر دوسرے نمبر پر آنے والا، پھر اس کے بعد آنے والا، (یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) حتیٰ کہ امام نکل آتا ہے، پس جو شخص امام کے قریب ہو کر بیٹھا، خاموشی سے اور غور سے خطبہ سنا اور کوئی لغو کام نہ کیا تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور جو امام سے دور ہو کر بیٹھا،لیکن اس نے غور سے خطبہ سنا،خاموشی سے بیٹھا رہا اور کوئی لغو کام نہ کیا تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔ اور جو شخص امام کے قریب ہو کر بیٹھا، لیکن لغو کام کیا اور خاموشی سے بیٹھا نہ غور سے خطبہ سنا، تو اس پر دو حصے گناہ ہے، اور جو امام سے دور بیٹھا،لغو کام کیا، خاموشی اختیار کی نہ غور سے خطبہ سنا تو اس پر گناہ کا ایک حصہ ہے اور جس نے کسی کو کہا کہ خاموش ہوجا پس اس نے کلام کیا اور جس نے کلام کیا اس کا کوئی جمعہ نہیں۔ پھر سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح فرماتے سنا۔