الفتح الربانی
أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها— نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب
بَابُ فَضْلِ التَّبْكِيرِ إِلَى الْجُمُعَةِ وَالْمَشْيِ لَهَا دُونَ الرُّكُوبِ وَالدُّنُوِّ مِنَ الْإِمَامِ وَالْأَنْصَاتِ لِلْخُطْبَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان
(وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ:) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ وَلَا تَغْرُبُ عَلَى يَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا تَفْزَعُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ إِلَّا هَٰذَانِ الثَّقَلَانِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَكَانِ يَكْتُبَانِ (وَفِي لَفْظٍ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَ) الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ فَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَدَنَةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَقَرَةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ شَاةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ طَائِرًا، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَيْضَةً، فَإِذَا قَعَدَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ))سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورج ایسے دن پر طلوع ہوتا ہے نہ غروب، جو جمعہ کے دن سے افضل ہو، ہر جانور جمعہ کے دن گھبرایا ہوا ہوتا ہے، سوائے ان دو جماعتوں جن و انس کے، اس دن کو مسجدکے دروازوں میں سے ہر دروازے پر لکھنے والے دو فرشتے ہوتے ہیں، جو پہلے پہلے آنے والوں کو لکھتے ہیں، پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی کرنے والے کی طرح، اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی کرنے والے کی طرح، اس کے بعد آنے والا بکری کی قربانی کرنے والے کی طرح، اس کے بعد آنے والا پرندے کی قربانی کرنے والے کی طرح اور اس کے بعد آنے والا انڈے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، جب امام (منبر پر) بیٹھ جاتا ہے تو صحائف کو لپیٹ لیا جاتا ہے۔