حدیث نمبر: 2742
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَيَّةُ سَاعَةٍ هَٰذِهِ؟ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! انْقَلَبْتُ مِنَ السُّوقِ فَسَمِعْتُ النِّدَاءَ فَمَا زِدْتُ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: وَالْوُضُوءَ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ میں سے ایک آدمی جمعہ کے روز مسجد میں داخل ہوا اور سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، انھوں نے اِس سے پوچھا: یہ کون سا وقت ہے (آنے کا)؟ اس نے کہا: امیر المؤمنین! ابھی ابھی بازار سے واپس آیاتھا، اتنے میں اذان سن لی اور صرف وضو کر کے آگیا ہوں، سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے غسل چھوڑ کر صرف وضو پر اکتفا کیا ہے، لیکن تجھے علم تو ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل کرنے کا حکم دیتے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2742
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 878، ومسلم: 845 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 199 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 199»