حدیث نمبر: 2741
(وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:) قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَتَدْرِي مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟)) قُلْتُ: هُوَ الْيَوْمُ الَّذِي جَمَعَ اللَّهُ فِيهَا أَبَاكُمْ، قَالَ: ((لَٰكِنِّي أَدْرِي مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ، لَا يَتَطَهَّرُ الرَّجُلُ فَيُحْسِنُ طُهُورَهُ ثُمَّ يَأْتِي الْجُمُعَةَ فَيُنْصِتُ حَتَّى يَقْضِيَ الْإِمَامُ صَلَاتَهُ إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ مَا اجْتُنِبَتِ الْمَقْتَلَةُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: کیا تم کو معلوم ہے کہ جمعہ کا دن کیا ہے؟ میں نے کہا:یہ وہی دن ہے، جس میں اللہ نے آپ کے باپ (آدم علیہ السلام ) کو پیدا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن مجھے (پوری طرح) معلوم ہے کہ جمعہ کا دن کیاہے،جو آدمی اچھے انداز میں طہارت حاصل کرتا ہے، پھر جمعہ کے لیے آتا ہے اور خاموش رہتا ہے، یہاں تک کہ امام نماز سے فارغ ہو جاتا ہے، تو یہ (عمل) اس کے لیے اِس جمعہ اور اگلے جمعہ کے ما بین ہونے والے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا، جب تک کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2741
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ انظر الحديث السابق: 1544 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23718 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24119»