حدیث نمبر: 2722
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَتَّخِذُ أَحَدُكُمُ السَّائِمَةَ فَيَشْهَدُ الصَّلَاةَ فِي جَمَاعَةٍ فَتَتَعَذَّرُ عَلَيْهِ سَائِمَتُهُ فَيَقُولُ لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِي مَكَانًا هُوَ أَكْلَى مِنْ هَٰذَا، فَيَتَحَوَّلُ وَلَا يَشْهَدُ إِلَّا الْجُمُعَةَ، فَتَتَعَذَّرُ عَلَيْهِ سَائِمَتُهُ، فَيَقُولُ لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِي مَكَانًا هُوَ أَكْلَى مِنْ هَٰذَا، فَيَتَحَوَّلُ فَلَا يَشْهَدُ الْجُمُعَةَ وَلَا الْجَمَاعَةَ فَيُطْبَعُ عَلَى قَلْبِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ایاس بن ابی رملہ شامی کہتے ہیں: میں سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، انہوں نے سیّدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، جبکہ دو عیدیں جمع ہوئی ہوں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دن کے شروع میں نماز عید ادا کی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کی رخصت دیتے ہوئے فرمایا: جو جمعہ ادا کرنا چاہتا ہے، وہ کر لے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2722
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة اياس بن ابي رملة الشامي أخرجه ابوداود: 1070، وابن ماجه: 1310، والنسائي: 3/ 194، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19318 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24078»