حدیث نمبر: 2710
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ لَهُ: فَأَخْبِرْنِي وَلَا تَضِنَّ عَلَيَّ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: كَيْفَ تَكُونُ آخِرَ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يُصَلِّي)) وَتِلْكَ سَاعَةٌ لَا يُصَلَّى فِيهَا؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ فِيهِ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى يُصَلِّي))؟ فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَهُوَ ذَٰكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(تیسری سند)سیّدنا عبد اللہ بن سلام نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ یہ گھڑی کس وقت ہے۔ سیّدنا ابوہریر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا کہ بخل نہ کرو اور مجھے بتلا دو۔ چنانچہ انھوں نے کہا: یہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا؛ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ جمعہ کی آخری گھڑی ہو، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان بھی نماز پڑھتے ہوئے اس گھڑی کی موافقت کرتا ہے اور یہ گھڑی تو ایسی ہے کہ اس میں کوئی نماز نہیں پڑھی جاتی؟ سیّدناعبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ: جو بندہ کسی مقام میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا ہے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے، یہاں تک کے وہ نماز پڑھ لے ۔میں نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: تو پھر وہ یہی ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2710
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، وانظر الحديث بالطريق الأول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24194»