حدیث نمبر: 2709
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثِي وَحَدِيثَ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ فِي كُلِّ سَنَةٍ، قَالَ: كَذَبَ كَعْبٌ، هُوَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ يَوْمِ جُمُعَةٍ، قُلْتُ: إِنَّهُ قَدْ رَجَعَ، قَالَ: أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ تِلْكَ السَّاعَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ! فَأَخْبِرْنِي بِهَا، قَالَ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، قَالَ: قُلْتُ: قَالَ: ((لَا يُوَافِقُ مُؤْمِنٌ وَهُوَ يُصَلِّي))، قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنِ انْتَظَرَ صَلَاةً فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ))؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَهُوَ كَذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(دوسری سند)سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں سیّدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو ملا اور ان کو کعب سے ہونے والی اپنی ملاقات کے بارے میں بتایا کہ وہ تو یہ کہتے تھے کہ یہ گھڑی ایک سال میں ایک مرتبہ ہوتی ہے، انھوں نے کہا: کعب نے غلط بات کی ہے، یہ تو ہر جمعہ کو ہوتی ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔ میں نے کہا: جی انھوں نے اپنی بات سے رجوع کر لیا تھا۔ پھر انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عبد اللہ بن سلام کی جان ہے! میں اس گھڑی کو خوب جانتا ہوں۔ میں نے کہا: اے عبد اللہ! تو پھر مجھے بتائیے۔ انھوں نے کہا: یہ جمعہ کے دن آخری گھڑی ہوتی ہے۔ میں نے کہا: اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ جو مومن اس میں دعا کرتا ہے، جب کہ وہ نماز کی حالت میں ہوتا ہے (اور اس گھڑی میں تو کوئی نماز ادا نہیں کی جاتی)۔ انھوں نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا کہ نماز کا انتظار کرنے والے کو نماز میں ہی سمجھا جاتا ہے، جب تک وہ نماز پڑھ نہ لے ۔؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، انھوں نے کہا: تو پھر یہی بات ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2709
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وانظر الحديث بالطريق الأول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23786 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24195»