الفتح الربانی
أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها— نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب
بَابُ مَا وَرَدَ فِي سَاعَةِ الْإِجَابَةِ وَوَقْتِهَا مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ باب: جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی اور اس کے وقت کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمْتُ الشَّامَ فَلَقِيتُ كَعْبًا فَكَانَ يُحَدِّثُنِي عَنِ التَّوْرَاةِ وَأُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ذِكْرِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَحَدَّثْتُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ))، فَقَالَ كَعْبٌ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، هِيَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، قُلْتُ لَا، فَنَظَرَ كَعْبٌ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ هِيَ فِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، قُلْتُ: لَا، فَنَظَرَ سَاعَةً فَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، قُلْتُ: نَعَمْ فَقَالَ كَعْبٌ: أَتَدْرِي أَيَّ يَوْمٍ هُوَ؟ قُلْتُ: وَأَيُّ يَوْمٍ هُوَ؟ قَالَ: فِيهَا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ، وَفِيهَا تَقُومُ السَّاعَةُ وَالْخَلَائِقُ فِيهَا مُصِيخَةٌ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ الْجِنَّ وَالْإِنْسِ خَشْيَةَ الْقِيَامَةِ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ بِقَوْلِ كَعْبٍ، فَقَالَ: كَذَبَ كَعْبٌ، قُلْتُ: إِنَّهُ قَدْ رَجَعَ إِلَى قَوْلِي، فَقَالَ: أَتَدْرِي أَيَّ سَاعَةٍ هِيَ؟ قُلْتُ: لَا وَتَهَالَكْتُ عَلَيْهِ أَخْبِرْنِي أَخْبِرْنِي، فَقَالَ: هِيَ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ، قُلْتُ: كَيْفَ وَلَا صَلَاةَ؟ قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ))سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں شام آیا اور کعب احبارکو ملا، وہ مجھے تورات سے بیان کرتے رہے اور میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث سناتا رہا، یہاں تک کہ جمعہ کے دن کا تذکرہ ہونے لگا، میں نے اسے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بھی اس میں اللہ تعالیٰ سے جو سوال کرتا ہے، وہ اسے دے دیتا ہے۔ کعب نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ ہر سال میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا: نہیں۔ کعب نے کچھ دیر غور کرنے کے بعد کہا: جی، اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ ہر مہینہ میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا: نہیں،یہ سن کر کعب نے پھر غور کیا اور کہا: جی، اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، یہ ہر جمعہ میں ایک مرتبہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا:جی ہاں۔ کعب نے کہا: کیا آپ کو پتہ ہے یہ کون سا دن ہے؟ میں نے کہا: یہ کون سا دن ہے؟ انھوں نے کہا: یہ وہ دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور اسی دن قیامت برپا ہوگی، یہی وجہ ہے کہ جن و انس کے علاوہ تمام مخلوقات اس (دن کو) قیامت کے خوف سے کان لگائے ہوتی ہیں۔پھر میں مدینہ منورہ آیا اور سیّدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو کعب کی بات بتائی، انھوں نے کہا: کعب نے غلط کہا۔میں نے کہا: جی وہ میری بات کے قائل ہو گئے تھے (کہ یہ گھڑی ہر جمعہ کو ہوتی ہے)۔ (پھر عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے)کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ گھڑی کون سی ہے؟میں نے کہا: جی نہیں، پھر تو میں (اصرار کرتے ہوئے) ان پر ٹوٹ پڑا اور کہا کہ مجھے بتلاؤ، بتلاؤ۔ پس انھوں نے کہا: یہ گھڑی عصر اور مغرب کے درمیان ہوتی ہے۔ میں نے کہا: یہ کیسے ہوتی ہے، جبکہ اس وقت میں تو کوئی نماز ہی نہیں ہوتی؟انھوں نے کہا: کیا تو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ: بندہ اس وقت تک نماز میں ہی رہتا ہے، جب تک اپنی جائے نماز میں (بیٹھ کر) نما زکا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔