الفتح الربانی
أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها— نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب
بَابُ مَا وَرَدَ فِي سَاعَةِ الْإِجَابَةِ وَوَقْتِهَا مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ باب: جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی اور اس کے وقت کا بیان
(وَعَنْهُ أَيْضًا بِسَنَدِهِ وَلَفْظِهِ وَفِيهِ:) ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ فَسَأَلْتُ عَنْهَا، فَقَالَ: خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَأُهْبِطَ إِلَى الْأَرْضِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَقَبَضَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَفِيهَا تَقُومُ السَّاعَةُ، فَهِيَ آخِرُ سَاعَةٍ، وَقَالَ سُرَيْجٌ فَهِيَ آخَرُ سَاعَتِهِ، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((فِي صَلَاةٍ)) وَلَيْسَتْ بِسَاعَةِ صَلَاةٍ؟ قَالَ: أَوَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مُنْتَظِرُ الصَّلَاةِ فِي صَلَاةٍ))؟ قُلْتُ: بَلَى هِيَ وَاللَّهِ هِيَابوسلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: (سابقہ سند اور الفاظ کے ساتھ، اس میں ہے:) پھر میں نکلا اور سیّدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے اس کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن پیدا کیا، اسی میں ان کو زمین پر اتارا گیا اور اسی دن ان کو وفات دی، اسی دن کو قیامت برپا ہو گی اور اس کی آخری گھڑی (قبولیت والی) ہے۔ میں نے کہا: لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو فرمایا کہ وہ بندہ نماز کی حالت میں ہو اور دن کی آخری گھڑی میں تو کوئی نماز ہی نہیں پڑھی جاتی؟ انھوں نے کہا: کیا تجھے اس چیز کا علم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کا انتظار کرنے والا بھی نماز میں ہی ہوتا ہے؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، (سمجھ آگئی) بس یہی ہے، اللہ کی قسم! یہی ہے۔