حدیث نمبر: 2705
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ (بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ) قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ وَهُوَ فِي صَلَاةٍ سَأَلَ اللَّهَ خَيْرًا إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهُ، قَالَ وَقَلَّلَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ، قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو هُرَيْرَةَ، قُلْتُ: وَاللَّهِ! لَوْ جِئْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَٰذِهِ السَّاعَةِ أَنْ يَكُونَ عِنْدَهُ مِنْهَا عِلْمٌ، فَأَتَيْتُهُ (فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا ثُمَّ قَالَ) قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ! إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَنَا عَنِ السَّاعَةِ الَّتِي فِي الْجُمُعَةِ فَهَلْ عِنْدَكَ مِنْهَا عِلْمٌ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا فَقَالَ: ((إِنِّي كُنْتُ قَدْ أُعْلِمْتُهَا ثُمَّ أُنْسِيتُهَا كَمَا أُنْسِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ))، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابوسلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس میں مسلمان نماز کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے جس خیر و بھلائی کا سوال کرتا ہے، وہ اسے عطا کر دیتا ہے۔ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس کے قلیل ہونے کی طرف اشارہ کیا۔ جب سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے (دل میں کہا کہ) اللہ کی قسم! اگر میں سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤں اور ان سے اس گھڑی کے بارے میں سوال کروں، ممکن ہے کہ ان کے پاس اس کے بارے میں کوئی علم ہو۔ پس میں ان کے پاس گیا، … طویل حدیث ذکر کی … ، میں ان کے پاس گیا اور کہا: اے ابو سعید! سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں جمعہ کے دن کی گھڑی کے بارے میں ایک حدیث بیان کی ہے، کیا آپ کے پاس اس (کے وقت کے تعین) کا کوئی علم ہے؟ سیّدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس گھڑی کے بارے بتلایا تو گیا تھا، لیکن پھر شب ِ قدرکی طرح مجھے یہ بھلا دی گئی۔ پھر میں ان کے پاس سے نکلا اور سیّدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2705
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «بعضه حسن وبعضه صحيح أخرجه البزار: 620، وحديث ابي ھريرة مرفوعا: ((ان في الجمعة ساعة ۔)) أخرجه البخاري: 935، ومسلم: 652، وانظر الحديث: 1507 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11624 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11647»