حدیث نمبر: 2699
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لِأَيِّ شَيْءٍ سُمِّيَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: ((لِأَنَّ فِيهَا طُبِعَتْ طِينَةُ أَبِيكَ آدَمَ وَفِيهَا الصَّعْقَةُ وَالْبَعْثَةُ وَفِيهَا الْبَطْشَةُ وَفِي آخِرِ ثَلَاثِ سَاعَاتٍ مِنْهَا سَاعَةٌ مَنْ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا اسْتُجِيبَ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کسی آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: جمعہ کے دن کی وجۂ تسمیہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اس کو جمعہ اس لیے کہا جاتا ہے، کیونکہ) اس میں تیرے باپ آدم علیہ السلام کی مٹی بنائی گئی اور اسی میں صَعْقَہ اور بَعْثَہ ہوگا اور اسی میں بَطْشَہ ہوگا اور اس کی آخری تین گھڑیوں میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو بھی اس میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرے گا، اس کی دعا قبول کی جائے گی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجمعة وفضل يومها وكل ما يتعلق بها / حدیث: 2699
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف الفرج بن فضالة، وعلي بن أبي طلحة ليس بذاك، ولم يدرك أبا ھريرة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8088»