الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ مَنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ بِمَشَقَّةٍ فِي الْفَرْضِ أَوِ النَّفْلِ وَصَلَّى قَاعِدًا فَصَلَاتُهُ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ باب: جو شخص فرض یا نفل نماز میں مشقت کے ساتھ کھڑے ہونے پر قادر ہواور بیٹھ کر نماز پڑھے تو اس کو کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کی بہ نسبت آدھا اجر ملے گا
حدیث نمبر: 2428
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: كُنْتُ شَاكِيًا بِفَارِسَ فَكُنْتُ أُصَلِّي قَاعِدًا، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ أَوْ خَشَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں فارس میں بیمار ہوگیا تھا، اس لیے میں بیٹھ کر نماز پڑھا کرتا تھا، جب میں نے اس کے متعلق سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لمبی رات تک کھڑے ہو کر اور لمبی رات تک بیٹھ کر نمازپڑھتے تھے، جب آپ کھڑے ہوکر قراءت کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر ہی کرتے اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے تھے۔