الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ مَنْ قَدَرَ عَلَى الْقِيَامِ بِمَشَقَّةٍ فِي الْفَرْضِ أَوِ النَّفْلِ وَصَلَّى قَاعِدًا فَصَلَاتُهُ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ باب: جو شخص فرض یا نفل نماز میں مشقت کے ساتھ کھڑے ہونے پر قادر ہواور بیٹھ کر نماز پڑھے تو اس کو کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کی بہ نسبت آدھا اجر ملے گا
حدیث نمبر: 2425
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهِيَ مَحَمَّةٌ فَحُمَّ النَّاسُ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَالنَّاسُ قُعُودٌ يُصَلُّونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((صَلَاةُ الْقَاعِدِ نِصْفُ صَلَاةِ الْقَائِمِ))، فَتَجَشَّمَ النَّاسُ الصَّلَاةَ قِيَامًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں آئے، جبکہ یہ بخار والی جگہ تھی، اس لیے لوگ بیمار ہوگئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور دیکھا کہ لوگ مسجد میں بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اجر کے لحاظ سے) بیٹھنے والے کی نماز کھڑے ہونے والے کی نماز کی نصف ہے۔ پس لوگوں نے مشقت کے ساتھ کھڑے ہوکر نماز پڑھنی شروع کردی۔