الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ مَنْ لَمْ يَقْدِرْ لِمَرَضٍ أَوْ نَحْوِهِ يُصَلِّي كَيْفَمَا يَسْتَطِيعُ وَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ الْقَائِمِ باب: یہ باب اس شخص کے بارے میں ہے جو بیماری وغیرہ کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قدرت نہیں رکھتا، وہ جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لے، اس کو کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والے کی طرح اجر ملے گا
حدیث نمبر: 2424
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ))، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنْ أَبِي رَجُلٌ رَقِيقٌ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ، فَأَمَّ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَيٌّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے ۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اے اللہ کے رسول ! بے شک میرے ابو جان تو بڑے نرم دل آدمی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے ، تم بھی یوسف کی صاحبات ہو ۔‘‘ پس سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو امامت کروائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ تھے ۔‘‘