الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ مَنْ لَمْ يَقْدِرْ لِمَرَضٍ أَوْ نَحْوِهِ يُصَلِّي كَيْفَمَا يَسْتَطِيعُ وَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ الْقَائِمِ باب: یہ باب اس شخص کے بارے میں ہے جو بیماری وغیرہ کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قدرت نہیں رکھتا، وہ جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لے، اس کو کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والے کی طرح اجر ملے گا
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: ((مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ))، قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ فَمَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ تُدْرِكُهُ الرِّقَّةُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ، مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ))، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ وَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ قَاعِدًاسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس بیماری میں وفات پا گئے تھے، اس میں فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابوبکربڑے نرم دل (اور جلد رونے والے) آدمی ہیں،جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو ان پر رقت طاری ہو جائے گی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بھی یوسف علیہ السلام کی صاحبات ہو، ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ پھر سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔