الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ مَنْ لَمْ يَقْدِرْ لِمَرَضٍ أَوْ نَحْوِهِ يُصَلِّي كَيْفَمَا يَسْتَطِيعُ وَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ الْقَائِمِ باب: یہ باب اس شخص کے بارے میں ہے جو بیماری وغیرہ کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قدرت نہیں رکھتا، وہ جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لے، اس کو کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والے کی طرح اجر ملے گا
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّاسُ فِي مَرَضِهِ يَعُودُونَهُ فَصَلَّى بِهِمْ جَالِسًا فَجَعَلُوا يُصَلُّونَ قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: ((إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا))سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری کے دوران لوگ آپ عیادت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بیٹھ کر نماز پڑھائی، جبکہ وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ وہ بیٹھ جائیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: بے شک امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لیے جب وہ رکوع کرے تو تب تم رکوع کرو، جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم رکوع سے سر اٹھاؤ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔