الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ مَنْ لَمْ يَقْدِرْ لِمَرَضٍ أَوْ نَحْوِهِ يُصَلِّي كَيْفَمَا يَسْتَطِيعُ وَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ الْقَائِمِ باب: یہ باب اس شخص کے بارے میں ہے جو بیماری وغیرہ کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قدرت نہیں رکھتا، وہ جیسے ممکن ہو نماز پڑھ لے، اس کو کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والے کی طرح اجر ملے گا
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صُرِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ عَلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي، فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ وَنَحْنُ قِيَامٌ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: ((إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا، وَلَا تَقُومُوا وَهُوَ جَالِسٌ كَمَا يَفْعَلُ أَهْلُ فَارِسَ بِعُظَمَائِهِمْ))سیّدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھوڑے سے کھجور کے ایک تنے پر گر پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم کا جوڑ اتر گیا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیمارداری کرنے کے لیے آپ کے پاس گئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (بیٹھ کر) نماز پڑھ رہے تھے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنے لگ گئے، جبکہ ہم کھڑے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو فرمایا: بے شک امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لیے اگر وہ کھڑا ہو کر نمازپڑھے تو تم بھی کھڑے ہوکر نماز پڑھو اور اگر وہ بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو، جب وہ بیٹھا ہو تو تم کھڑے نہ ہوا کرو، جیسے فارسی لوگ اپنے بڑوں (کی تعظیم کرتے ہوئے ان) کے ساتھ کرتے ہیں۔