حدیث نمبر: 2418
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ سَمِعَهُ مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَقَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَرَسٍ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى قَاعِدًا وَصَلَّيْنَا قُعُودًا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: ((إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً، فَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھوڑے سے گر پڑے، آپ کی دائیں جانب زخمی ہو گئی، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عیادت کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے، اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور ہم نے بھی (آپ کی اقتداء میں) نماز بیٹھ کر پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب نماز پوری کی تو فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، اس لیے جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو،جب وہ رکوع کرے، تب تم رکوع کرو، جب وہ سجدہ کرے تب تم سجدہ کرو، جب وہ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہے، تو تم رَبَّنَا وَلکَ الْحَمْدُ کہو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2418
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 805، 1114، ومسلم: 441 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12098»