الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
الْفَضْلُ الثانِي فِي اسْتِحْبَاتٍ صَلَاةِ الوِتْرِ وَالتَّهَجُدِ بِاللَّيْلِ فِي السَّفَرِ باب: فصل دوم:سفر میں رات کو وتر اور تہجد کی نماز مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2414
عَنْ عِيسَى بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَصَلَّيْنَا الْفَرِيضَةَ فَرَأَى بَعْضَ وَلَدِهِ يَتَطَوَّعُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فِي السَّفَرِ فَلَمْ يُصَلُّوا قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَلَوْ تَطَوَّعْتُ لَأَتْمَمْتُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حفص بن عاصم کہتے ہیں: ہم سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے اور (ایک مقام پر) فرض نماز ادا کی، پھر سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ان کے بعض لڑکے سنتیں ادا کر رہے تھے تو کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدنا ابو بکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازیں پڑھیں، انھوں نے تو پہلے والی اور بعد والی سنتیں ادا نہیں کیں۔ پھر انھوں نے کہا: اگر میں نے یہ نفلی نماز پڑھنی ہی ہوتی تو (فرض نماز کو بھی) پورا پڑھ لیتا۔