الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ جَمْعِ الْمُقِيمِ لِمَطَرٍ أَوْ غَيْرِهِ باب: مقیم آدمی کا بارش وغیرہ کی وجہ سے نمازوں کو جمع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2406
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّاهَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مزدلفہ تشریف لائے تو اترے، وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا،پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھائی، پھر ہرآدمی نے اپنے اونٹ کو اپنے مقام پر بٹھایا، پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی (نفلی) نماز نہیں پڑھی۔