حدیث نمبر: 2400
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ! أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ، قَالَ وَأَنَا أَظُنُّ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعت جمع کرکے اور سات رکعت جمع کرکے پڑھیں۔عمرو کہتے ہیں: میں نے جابر بن زید سے کہا: اے ابو شعثاء! میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کو مؤخر کرکے اور عصر کو جلدی کر کے اور مغرب کو مؤخر کرکے اور عشاء کو جلدی کر کے پڑھا ہوگا۔ انہوں نے کہا: میرا بھی یہی خیال ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2400
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق: 1250 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1918 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1918»