الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
الْفَصْلُ الثَّانِي فِيمَا رُوِيَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ باب: فصل دوم:ظہر و عصر کو جمع کر کے ادا کرنے کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ فَسَارَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ مَسِيرَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ سَارَ حَتَّى أَمْسَى، فَقُلْتُ: الصَّلَاةَ، فَسَارَ وَلَمْ يَلْتَفِتْ، فَسَارَ حَتَّى أَظْلَمَ فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ أَوْ رَجُلٌ: الصَّلَاةَ وَقَدْ أَمْسَيْتَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَجْمَعَ بَيْنَهُمَا فَسِيرُوا، فَسَارَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا(دوسری سند) جناب نافع کہتے ہیں: جب سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو(ان کی بیوی) صفیہ کی مدد کے بارے میں خبر دی گئی، تو وہ اس ایک رات میں تین راتوں کی مسافت کے برابر چلے، چلتے رہے، حتیٰ کہ شام ہوگئی، میں نے کہا: نماز پڑھ لیں، لیکن وہ چلتے رہے اور میری طرف کوئی توجہ نہ کی،حتیٰ کہ اندھیرا ہوگیا، پھر ان کو جناب سالم یا کسی اور آدمی نے کہا:نماز پڑھ لیں، آپ نے تو شام کر دی ہے۔ (اب کی بار) انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب جلدی چلنا ہوتا توآپ ان دونوں نمازوں کو جمع کرلیا کرتے تھے، اور میں بھی ان کو جمع کر کے ادا کرنا چاہتا ہوں، اس لیے تم چلتے رہو، پھر انھوں نے سفر جاری رکھا، یہاں تک کہ شفق غائب ہوگئی، پھر اترے اور (مغرب و عشا)کو جمع کر کے ادا کیا۔