الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
الْفَصْلُ الثَّانِي فِيمَا رُوِيَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ باب: فصل دوم:ظہر و عصر کو جمع کر کے ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2394
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبِ مِنْ بَنِي أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى قَالَ خَرَجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى الْحِمَى، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ هَبْنَا أَنْ نَقُولَ لَهُ الصَّلَاةَ حَتَّى ذَهَبَ بَيَاضُ الْأُفُقِ وَذَهَبَتْ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ نَزَلَ فَصَلَّى بِنَا ثَلَاثًا وَاثْنَتَيْنِ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اسماعیل بن عبد الرحمن کہتے ہیں: ہم سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ چراگاہ کی طرف نکلے، سورج غروب ہوگیا، لیکن ہم ان کی ہیبت کی وجہ سے نماز کا نہ کہہ سکے، حتی کہ افق کی سفیدی بھی غائب ہو گئی اور رات کا ابتدائی اندھیر ا بھی ختم ہو گیا، پھر وہ (بالآخر) اترے اور ہمیں تین اور دو رکعتیں (یعنی مغرب و عشاء کی نمازیں) پڑھائیں، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا تھا۔