الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
الْفَصْلُ الثَّانِي فِيمَا رُوِيَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ باب: فصل دوم:ظہر و عصر کو جمع کر کے ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2386
عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ، قَالَ: كَانَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا (وَفِي رِوَايَةٍ كَانَ إِذَا سَافَرَ فَنَزَلَ مَنْزِلًا) فَأَعْجَبَهُ الْمَنْزِلُ أَقَامَ فِيهِ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَإِذَا سَارَ وَلَمْ يَتَهَيَّأْ لَهُ الْمَنْزِلُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَنْزِلَ فَيَجْمَعُ بَيْنَ الْظُّهْرِ وَالْعَصْرِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوقلابہ کہتے ہیں: عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اور میرے علم کے مطابق وہ مرفوع روایت بیان کر رہے تھے: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دورانِ سفر کسی مقام پر پڑاؤ ڈالتے اور وہ مقام آپ کو اچھا لگتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں قیام کرتے اور ظہر و عصر کو جمع کر کے ادا کر لیتے، اور جب آپ چل رہے ہوتے اور (ٹھہرنے کے لیے) کوئی اچھا مقام نہ پاتے تو چلتے رہے اور ظہر کو مؤخر کر دیتے، یہاں تک کہ کسی مقام پر پہنچ کر ظہر و عصر کو جمع کر لیتے۔