الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
الْفَصْلُ الثَّانِي فِيمَا رُوِيَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ باب: فصل دوم:ظہر و عصر کو جمع کر کے ادا کرنے کا بیان
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ زَيْغِ الشَّمْسِ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ يُصَلِّيهِمَا جَمِيعًا وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ سَارَ، وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَاءَ فَصَلَّاهَا مَعَ الْمَغْرِبِسیّدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ تبوک (کے سفر) میں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج ڈھلنے سے قبل (اپنے مقام سے) کوچ کر جاتے تو ظہر کو مؤخر کر کے اس کو عصر کے ساتھ جمع کر کے ادا کرتے، اور اگر سورج ڈھلنے کے بعد روانہ ہوتے تو ظہر و عصر کو جمع کر کے ادا کر لیتے، پھر سفر شروع کرتے۔ اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب سے پہلے سفر شروع کرتے تو مغرب کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ اس کو عشاء کے ساتھ پڑھتے اور اگر مغرب کے بعد کوچ کرتے تو عشاء کو جلدی کرلیتے اور اس کو مغرب کے ساتھ ادا کر لیتے۔