الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ الْقَصْرِ فِي السَّفَرِ باب: سفر میں نمازوں کو جمع کرنے کی مشروعیت
حدیث نمبر: 2381
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ثَنَا مُعَاذُ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا وَذَلِكَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، قُلْتُ: مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں نکلے، یہ غزوۂ تبوک کا واقعہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے ادا کیا۔ راوی کہتا ہے: میں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کام پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا:آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ آپ اپنی امت پر تنگی نہ کریں۔