حدیث نمبر: 2375
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: مَرَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَجَلَسْنَا فَقَامَ إِلَيْهِ فَتَى مِنَ الْقَوْمِ فَسَأَلَهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَزْوِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَجَاءَ فَوَقَفَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: إِنَّ هَٰذَا سَأَلَنِي عَنْ أَمْرٍ فَأَرَدْتُّ أَنْ تَسْمَعُوهُ أَوْ كَمَا قَالَ، غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَحَجَجْتُ مَعَهُ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَشَهِدْتُ مَعَهُ الْفَتْحَ فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَمَانَ عَشْرَةَ لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، وَيَقُولُ لِأَهْلِ الْبَلَدِ صَلُّوا أَرْبَعًا فَإِنَّا سَفَرٌ، وَاعْتَمَرْتُ مَعَهُ ثَلَاثَ عُمَرٍ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَجَّاتٍ فَلَمْ يُصَلِّيَا إِلَّا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَا إِلَى الْمَدِينَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابونضرۃ کہتے ہیں: سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ گزر رہے تھے، پس ہم بیٹھ گئے اور جماعت سے ایک نوجوان ان کے پاس گیا اور ان سے غزوے، حج اور عمرے کے سفروں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا۔ وہ آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہوگئے اور کہا:اس نوجوان نے مجھ سے ایک سوال کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ تم سارے اس کا جواب سن لو۔ بات یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ لوٹنے تک دو رکعت نماز پڑھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج بھی کیا، (اس سفر میں بھی) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ لوٹنے تک دو رکعتیں ہی ادا کیں۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ فتح مکہ کے موقع پر حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں اٹھارہ دن قیام کیا اور دو رکعتیں ہی پڑھیں، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہر والوں کو کہتے تھے: تم لوگ چار رکعتیں پڑھ لیا کرو، کیونکہ ہم مسافر ہیں۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تین عمرے کیے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتیں ہی ادا کرتے رہے، اس کے بعد میں نے سیّدنا ابوبکراور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ ساتھ کئی حج کئے، وہ دونوں مدینہ لوٹنے تک دو رکعت ہی نماز پڑھا کرتے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2375
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف من اجل علي بن زيد بن جدعان، ولبعض الحديث شواھد، ابن ابي شيبة: 2/ 450، وابن خزيمة: 1643، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 18/ (515)، وأخرجه مختصرا ابوداود:1229 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19865، 19871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20112»