حدیث نمبر: 2370
عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي (بْنَ أَبِي سُفْيَانَ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَاجًّا قَدِمْنَا مَعَهُ مَكَّةَ، قَالَ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى دَارِ النَّدْوَةِ، قَالَ: وَكَانَ عُثْمَانُ حِينَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ صَلَّى بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ أَرْبَعًا أَرْبَعًا، فَإِذَا خَرَجَ إِلَى مِنَى وَعَرَفَاتٍ قَصَرَ الصَّلَاةَ، فَإِذَا فَرَغَ مِنَ الْحَجِّ وَأَقَامَ بِمِنَى أَتَمَّ الصَّلَاةَ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ مَكَّةَ، فَلَمَّا صَلَّى بِنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ (يَعْنِي مُعَاوِيَةَ) نَهَضَ إِلَيْهِ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ فَقَالَا لَهُ: مَا عَابَ أَحَدٌ ابْنَ عَمِّكَ بِأَقْبَحِ مَا عِبْتَهُ بِهِ، فَقَالَ لَهُمَا: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَا: فَقَالَا لَهُ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّهُ أَتَمَّ الصَّلَاةَ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: فَقَالَ لَهُمَا: وَيْحَكُمَا، وَهَلْ كَانَ غَيْرَ مَا صَنَعْتُ؟ قَدْ صَلَّيْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَا: فَإِنَّ ابْنَ عَمِّكَ قَدْ كَانَ أَتَمَّهَا، وَإِنَّ خِلَافَكَ إِيَّاهُ لَهُ عَيْبٌ، قَالَ فَخَرَجَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْعَصْرِ فَصَلَّاهَا بِنَا أَرْبَعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عباد کہتے ہیں: سیّدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ حج کرنے کے لیے آئے تو ہم بھی ان کے ساتھ مکہ میں آئے، انھوں نے ہمیں نماز ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں اور پھر دار الندوہ میں چلے گئے۔ جب سیّدناعثمان رضی اللہ عنہ مکہ میں آتے تو ظہر، عصر اور عشاء کی چار چار رکعتیں پڑھاتے تھے، لیکن جب وہ منی اور عرفات میں جاتے تو قصر نماز پڑھتے، پھر جب حج سے فارغ ہو جاتے اور منی میں اقامت اختیار کرتے تو پوری نماز پڑھتے تھے، یہاں تک کہ مکہ مکرمہ سے چلے جاتے۔ اس کے بعد جب سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں دو رکعت نماز ظہر پڑھائی تو مروان بن حکم اور عمرو بن عثمان ان کے پاس گئے اور کہا: تو نے اپنے چچا زاد (سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ ) پر قبیح ترین عیب لگایا ہے۔ انھوں نے پوچھا: وہ کیا؟ ان دونوں نے کہا: کیا تم یہ نہیں جانتے کہ وہ مکہ میں پوری نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، جو عمل میں نے کیا ہے، کیا اس کی کوئی اور صورت بھی ہے؟ میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدنا ابو بکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہا کے ساتھ یہی نماز پڑھی ہے۔ لیکن ان دونوں نے پھر کہا: تیرے چچا زاد نے تو پوری پڑھی ہے اور یہ ان پر عیب ہے کہ تو ان کی مخالفت کرے۔ اس کے بعد جب سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ عصر کے لیے آئے تو چار رکعتیں پڑھائیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2370
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 19/ 765 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16857 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16982»