الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ مَسَافَةِ الْقَصْرِ وَحُكْمِ مَنْ نَزَلَ بِبَلَدٍ فَنَوَى الْإِقَامَةَ فِيهِ وَإِتْمَامِ الْمُسَافِرِ إِذَا باب: قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان¤وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ¤مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا¤وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ¤کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
حدیث نمبر: 2369
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ (وَفِي لَفْظٍ) الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ابطح مقام پر عصر کی یا ظہر وعصر دونوں کی دو دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے، یہاں تک کہ وہ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔