الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ مَسَافَةِ الْقَصْرِ وَحُكْمِ مَنْ نَزَلَ بِبَلَدٍ فَنَوَى الْإِقَامَةَ فِيهِ وَإِتْمَامِ الْمُسَافِرِ إِذَا باب: قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان¤وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ¤مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا¤وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ¤کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
حدیث نمبر: 2367
عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: سَافَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا، فَسَأَلْتُهُ: هَلْ أَقَامَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، أَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یحی بن ابی اسحاق کہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قصر نماز کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس لوٹنے تک ہمیں دو دو رکعت نماز پڑھاتے رہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں قیام بھی کیا تھا؟انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں دس دن قیام کیا تھا۔