الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ مَسَافَةِ الْقَصْرِ وَحُكْمِ مَنْ نَزَلَ بِبَلَدٍ فَنَوَى الْإِقَامَةَ فِيهِ وَإِتْمَامِ الْمُسَافِرِ إِذَا باب: قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان¤وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ¤مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا¤وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ¤کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
حدیث نمبر: 2360
عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ: إِذَا كُنَّا مَعَكُمْ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا، وَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى رِحَالِنَا صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں:ہم مکہ میں سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، میں نے کہا: جب ہم تمہارے ساتھ ہوتے ہیں تو چار رکعت نماز پڑھتے ہیں اور جب اپنی رہائش گاہوں کی طرف لوٹتے ہیں تو دو رکعت(قصر نماز) پڑھتے ہیں، سیّدنا عبد اللہ نے کہا: یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔