الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ مَسَافَةِ الْقَصْرِ وَحُكْمِ مَنْ نَزَلَ بِبَلَدٍ فَنَوَى الْإِقَامَةَ فِيهِ وَإِتْمَامِ الْمُسَافِرِ إِذَا باب: قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان¤وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ¤مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا¤وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ¤کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
حدیث نمبر: 2359
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِمِنَى أَكْثَرَ مَا كَانَ النَّاسُ وَآمَنَهُ رَكْعَتَيْنِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناحارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں ظہر وعصر کی نمازیں دو دو رکعت پڑھیں، حالانکہ اس وقت لوگوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ تھی اور امن بھی بہت تھا۔ ان احادیث کا لب لباب یہ ہے کہ قصر کا تعلق دشمن کے خوف یا صرف جہادی سفر سے نہیں ہے، بلکہ ہر سفر میں قصر نماز پڑھی جائے گی، اس میں امن ہو یا خوف۔