الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ مَسَافَةِ الْقَصْرِ وَحُكْمِ مَنْ نَزَلَ بِبَلَدٍ فَنَوَى الْإِقَامَةَ فِيهِ وَإِتْمَامِ الْمُسَافِرِ إِذَا باب: قصر کی مسافت اور کسی شہر میں اقامت کی نیت سے ٹھہرنے والے کے حکم کا بیان¤وَاِتْمَامِ الْمُسَافِرِ اِذَا اقْتَدٰی بِمُقِیْمٍ¤مقیم کی اقتدا میں مسافر کا نماز پوری پڑھنا¤وَھَلْ یَقْصُرُ الصَّلَاۃَ بِمَنًی اَھْلُ مَکَّۃَ¤کیا اہل مکہ منیٰ میں قصر نماز پڑھیں گے
حدیث نمبر: 2357
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي السِّمْطِ أَنَّهُ أَتَى أَرْضًا يُقَالُ لَهَا دَوْمِينُ، مِنْ حِمْصَ عَلَى رَأْسِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِيلًا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَتُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ؟ فَقَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَفْعَلُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جبیر بن نفیر کہتے ہیں: جناب ابو سمط دو مین نامی جگہ پر آئے، جو حمص سے اٹھارہ میل کے فاصلے پر ہے اور وہاں دو رکعت نماز پڑھی۔ میں نے کہا: کیا تو دو رکعت نماز پڑھ رہا ہے؟اس نے کہا: میں نے تو سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ذی الحلیفہ دو رکعت نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، پھر جب میں نے ان سے دریافت کیا تو انھوں نے کہا: میں تو اسی طرح کروں گا جیسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا تھا۔