الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ افْتِرَاضِ صَلَاةِ السَّفَرِ وَحُكْمِهَا باب: سفری نماز کے تقرر اور اس کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 2346
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: قَدْ فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ بِمَكَّةَ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ فَإِنَّهَا وَتْرُ النَّهَارِ، وَصَلَاةَ الْفَجْرِ لِطُولِ قِرَاءَتِهَا، قَالَتْ: وَكَانَ إِذَا سَافَرَ صَلَّى الصَّلَاةَ الْأُوْلَىترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)وہ کہتی ہیں: مکہ میں نماز دو دو رکعتیں فرض ہوئی تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ آئے تو دو دو رکعتوں کا مزید اضافہ کر دیا گیا، سوائے نمازِ مغرب کے، کیونکہ وہ دن کے وتر ہیں،اور سوائے نمازِفجرکے، کیونکہ اس میں قراءت لمبی ہوتی ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مزید کہتی ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر ہوتے تو پہلے والی نماز پڑھتے تھے۔