حدیث نمبر: 2334
عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَلَى فَاطِمَةَ فَأَذِنَتْ لَهُ، قَالَ: ثَمَّ عَلِيٌّ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَرَجَعَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا مَرَّةً أُخْرَى، فَقَالَ: ثَمَّ عَلِيٌّ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: مَا مَنَعَكَ أَنَّ تَدْخُلَ حِينَ لَمْ تَجِدْنِي هَٰهُنَا؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْخُلَ عَلَى الْمُغِيبَاتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابوصالح کہتے ہیں کہ سیّدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے (گھر میں آنے کی ) اجازت طلب کی، انہوں نے اجازت دے دی، انھوں نے اندر آ کر پوچھا: یہاں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا:نہیں۔ پس وہ واپس چلے گئے۔ وہ بعد میں پھر ایک دفعہ آئے اور اجازت طلب کی اور پوچھا کہ کیا سیّدنا علی رضی اللہ عنہ یہاں پر موجود ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، پھر وہ اندر آ گئے۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: تم کو (پچھلی دفعہ) میری عدم موجودگی میں کس چیز نے گھر میں آکر (یہاں بیٹھنے سے) منع کیا تھا؟سیّدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ان عورتوں پر داخل ہونے سے منع فرمایا،جن کے خاوند گھر پر موجود نہ ہوں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2334
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه ابويعلي: 7348، وابن حبان: 5584 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17823 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17977»