الفتح الربانی
أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به— سفر کی نماز، آداب اوراذکار اور اس سے متعلقہ دوسرے امورکا بیان
بَابُ النَّهْيِ عَنِ الدُّخُولِ عَلَى الْمُغِيبَةِ مُنْفَرِدًا وَسَبَبِ ذَلِكَ وَوَعِيدِ مَنْ فَعَلَهُ باب: جس عورت کا خاوند غائب ہو، اس پر (مرد) کے داخل ہونے کی ممانعت¤اس کا سبب اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ فَرَآهُمْ فَكَرِهَ ذَلِكَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَمْ أَرَ إِلَّا خَيْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ))، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: ((لَا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَٰذَا عَلَى مُغِيبَةٍ إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوِ اثْنَانِ))سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ سیدہ اسما بنت عمیس رضی اللہ عنہا ، جو سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، کے پاس آئے، اتنے میں سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آ گئے، ان کو یہ بات ناگوار گزری، پس انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیااور یہ بھی کہہ دیا کہ مجھے اس میں خیر ہی نظر آ رہی ہے، (یعنی کسی قسم کا سوئے ظن نہیں ہے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ نے اسماء کو ا س سے بری کردیا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: آج کے بعد کوئی آدمی اس عورت کے پاس نہ جائے،جس کا خاوند موجود نہ ہو، مگر اس صورت میں اس کے ساتھ ایک دو افراد ہونے چاہئیں۔