حدیث نمبر: 2332
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ فَرَآهُمْ فَكَرِهَ ذَلِكَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَمْ أَرَ إِلَّا خَيْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ))، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: ((لَا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَٰذَا عَلَى مُغِيبَةٍ إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ أَوِ اثْنَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ سیدہ اسما بنت عمیس رضی اللہ عنہا ، جو سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، کے پاس آئے، اتنے میں سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آ گئے، ان کو یہ بات ناگوار گزری، پس انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیااور یہ بھی کہہ دیا کہ مجھے اس میں خیر ہی نظر آ رہی ہے، (یعنی کسی قسم کا سوئے ظن نہیں ہے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ نے اسماء کو ا س سے بری کردیا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: آج کے بعد کوئی آدمی اس عورت کے پاس نہ جائے،جس کا خاوند موجود نہ ہو، مگر اس صورت میں اس کے ساتھ ایک دو افراد ہونے چاہئیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة السفر وآدابه وأذكاره وما يتعلق به / حدیث: 2332
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2173 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6595 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6595»